دل خراب کے لیے پیشگی معذرت 😬
تصویر دیکھ کے گھبرائیے کا بالکل مت۔
آپ سب نے یقینًا گائے کی ران، گردن، سینے کا گوشت اور پائے وغیرہ تو کھائے ہی ہوں گے۔
لیکن میری یہ جان کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ گائے کی “ناک” کا سالن اور سوپ افریقہ کے باسیوں کی مرغوب غذا ہے۔
گھر (لندن) سے کچھ دور واقع اس حلال گوشت کی دکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔
یہاں افریقی مسلمان بھائیوں کے لیے یہ خاص “حلال ناک” 😝 بارعایت قیمتوں پر بکتی ہیں۔
پہلے چند لمحے تو میں یہی سوچتا رہا کہ یہ کس چیز کا گوشت ہے، کہیں کسی غلط دکان پر تو نہیں آ گیا۔
لیکن غلط فہمی اس وقت دور ہوگئی جب دکان کے ایک چاک و چوبند اور لندن میں پاکستان سے آئے نووارد سیلز پرسن نے مجھے تذبذب کا شکار دیکھتے ہوئے پاس آ کر پہلے انتہائی انگریزی انداز میں “ہیلو” کہا، اور بعد میں یکدم پنجابی کا سہارا لیتے ہوئے بولا:
“پائین، گاں دا نَک اے، تے بلکل حلال جانور دا اے!”
(بھائی جان، گائے کی ناک ہے اور حلال جانور کی ہے۔)
میں تو افریقی نہیں، پھر یہ موصوف مجھے یہ “ناک” بیچنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟
اس سوچ پر میرے چہرے کے بدلتے جغرافیہ کو دیکھ کر جناب نے مزید تفصیلات بتانے کی کوشش نہیں کی۔
بہرحال، میں لینے تو مرغی اور بکرے کا گوشت گیا تھا، لیکن اس دکان سے چنے کی دال کا پیکٹ لے کے ہی واپس آ گیا۔
سچ پوچھئے تو دل ہی نہیں مانا۔ 🤣
بقول دکاندار کے، یہ “حلال گائے کی ناک” افریقی مسلمان ان سے روزانہ کی بنیاد پر کافی زیادہ خریدتے ہیں، اور اس کا بنا ہوا سالن اور سوپ بہت پسند کرتے ہیں۔
دکان سے نکلنے سے پہلے میں نے سوچا کیوں نہ ایک تصویر لے لوں، تاکہ آپ احباب کے ساتھ شیئر کر سکوں کہ دنیا میں یہ سب کچھ بھی کھایا جاتا ہے اور ہمارے ہاں کچھ لوگ بس یونہی “گردے کپورے” کھانے پر ہی بدنام ہو جاتے ہیں۔ 🙃
آخر میں جاتے جاتے ایک بات اور بتاتا چلوں:
ایک کمزور لمحے کو میں نے سوچا تھا کہ تھوڑا سا پکا کر دیکھا جائے،
مگر یہ سوچ کر ارادہ ترک کر دیا کہ:
1. ایک تو اس “ناک” کے ساتھ اہلیہ گھر میں داخل نہیں ہونے دیں گی، اور
2. دوسرا یہ کہ جب کوئی پوچھے گا کہ آج گھر کیا پکا ہے تو بتانا پڑے گا:
“گاں دا نَک” (گائے کی ناک)… اور یوں میری ناک کٹنے کا خدشہ تھا۔ 😝🤣😝
کیا آپ نے بھی کبھی اس کا سوپ پیا ہے؟ 🤣😉
سلامت اور آباد رہیں۔
دعا کا طالب:
محمد عظیم حیات
لندن

